بھٹکل:7؍ اکتوبر(ایس اؤ نیوز)ہوناور کے پریش میستا کی حادثاتی موت سے بی جےپی نے 2018کے اسمبلی انتخابات میں بھرپور فائدہ اٹھایا اور عوام کے جذبات کا بھرپور کھلواڑ کیا۔اب جب کہ سی بی آئی نے پریش میستا کی موت کو حادثاتی موت قرار دیا ہے تو اب کانگریس کی باری ہے کہ وہ سی بی ائی کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کا فائدہ کیسے اٹھاتی ہے۔
سال 2018سے لے کر سی بی آئی کی جانب سے عدالت میں بی رپورٹ داخل کئے جانے تک اترکنڑا کے عوام ، جمہوری نظام میں عوام کے استعمال ، ان کی اپنی فکر کی اہمیت و حیثیت ، اپنی ذمہ داری کی اہمیت کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے خاص کر یہ دیکھنا باقی ہے کہ کانگریس اس معاملےکو اگلے انتخابات میں کتنے نتیجہ خیز انداز میں استعمال کرتی ہے۔
سال 2017 دسمبر کا مہینہ تھا 2018میں ودھان اسبھا کےلئے انتخابات کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔ کانگریس کے سدرامیا کی قیادت والی حکومت اپنے آخری مرحلےمیں تھی ، ہرحال میں اقتدار حاصل کرنے سب کچھ داؤ پر تھا اسی دوران اپنی خود فکری قوت کو کھو کر حالات ، جذبات کے حوالے ہوکر دھرم، ذات ، پارٹی ، طبقہ کےنام پر سیاسی شطرنج کےمہرے بن گئے ۔
ایک ایسے وقت جب نئے اور پرانے ہندو کارکنان کے قتل معاملات کو لےکر سیاسی سطح پر دھواں اڑنے لگاہی تھا کہ بدلہ لینے والے جذبات کو ہوا دے کر اترکنڑا اور دکشن کنڑا میں چنگاری کو شعلہ بنانےمیں پریش میستا کی موت نے اہم کردار نبھایا تھا۔ پریش میستا کون تھا اپنے گھر اور صحن کے باہر کسی کو پتہ نہیں تھالیکن افواہوں ، سیاسی بیانات نے حدوں کو پار کراتے ہوئے اسے بھگت سنگھ ، سکھ دیو سنگھ اور اشفاق اللہ خان جیسی شہادت کا فریم چسپاں کیاگیا ، بھٹکل کےسوا پورے ضلع میں احتجاجات اور فسادات کی لہر چلی اور ضلع داغ دارہوا۔
مسلمانوں پر پریش میستا کے قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے پوری ریاست میں خوف کا ماحول پیدا کرنےکے علاوہ بڑی تیز رفتاری کے ساتھ امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرتےہوئے عوامی ملکیت کو آگ لگانے پولس والوں پر پتھراؤ اور پولس جیب کو نذر آتش کرنے جیسے واقعات اور احتجاجات ہوئے۔ میستا کی موت کے معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کئے جانے سےلے کر عدالت میں بی رپورٹ داخل ہونے تک کتنوں کا چین بربادہوا، کئی لوگ گرفتار ہوئے۔ کتنے لوگ غمگین ہوئے اور کئی لوگ اشتعال انگیزی کا شکار ہوکر اپنی زندگی کے سکون کو کھودیا۔ موت حادثاتی ہے یا غیر حادثاتی۔ لیکن کیا سیاست کے لئے استعمال ہوئے نوجوان کے والدین کو انصاف ملا؟ کیا سیاسی پرثہ انہیں مطمئن کر پائے گا؟ ایسے بہت سارے سوال ہیں۔
ہندو تنظیموں اور ان کےمقاصدکو سیاسی طورپر استعمال کرتےہوئے اقتدار پانے والی بی جے پی کے لیڈران نے ہی پریش میستا موت معاملے کو سی بی آئی کو سونپنے کا پرزور مطالبہ کیاتھا۔ اور کانگریس کے خلاف ہونےو الے احتجاجات کا یہ اہم ہتھیار تھا۔ مطالبے کے تحت جب معاملہ سی بی آئی کو سونپا گیا تو جب تک سی بی آئی کی رپورٹ داخل نہیں کی جاتی اور الزامات کو صحیح ثابت نہیں کرتی تب تک لازمی تھا کہ وہ انتظار کرتے ، لیکن انہوں نے صرف ایک وہم کو ’ قتل ‘ کے طورپر پیش کرتے ہوئے عوام کے سامنے نہ صرف جھوٹ بولا بلکہ انتخابات کی خاطر اپنے جھوٹے بیانات کے لئے اعتماد کا ماحول بنا نے کو لےکر عوامی سطح پر کافی ناراضگی پیدا ہوئی ہے۔آج کانگریس جس رپورٹ پر اچھل رہی ہے وہ دراصل بی جےپی اور ہندو تنظیموں کےمطالبہ کی دین ہے۔ کیونکہ ان کے مطالبےپر اگر کانگریس معاملے کو سی بی آئی کے حوالےنہ کرتی تو یہی بی جے پی والےآج بھی یہی کہتے رہتے ریاستی جانچ ایجنسیوں پر ہمیں اعتماد نہیں ہے۔ گویا کانگریس نے اپنے اوپر لگےکیچڑ کو صاف کرلیا ہے۔ اور خود بی جےپی اور ہندو تنظیموں نے کانگریس کےلئے موقع عنایت کیا ہے اسی لئےمذاقاً کہا جارہاہے کہ کانگریس ، بی جےپی کو گالی نہ دیں بلکہ شکریہ ادا کریں کیونکہ انہی کے مطالبے کے بعد سی بی آئی نے کانگریس کا چہرہ صاف کیا ہے۔
اپنی جانچ کی بنیاد پر رپورٹ سونپنے والی سی بی آئی پر کانگریس الزام لگایا کرتی ہے کہ وہ برسراقتدار پارٹی کی بات سنتی ہے اب جب کہ خود سی بی آئی کی رپورٹ بی جےپی کےلئے منفی کہی جارہی ہے تو پھر سی بی آئی پر لگائے جانے والے الزام خود جھوٹے ثابت ہوتےہیں۔ فی الحال عوام کو غور کرنا چاہئے کہ ان کی معصومیت کا استعمال کس نے، کس طرح اور کن مقاصد کےلئے کیا؟ ہم اپنے جذبات اور بےوقوفی میں کتنےبہہ گئے؟ اس معاملےمیں کن کن کو مصیبتوں کا سامنا ہوا؟ اگلے چند برسوں تک اس کے اثرات کس کس پر ہونگے ؟ اور معاملے میں استعمال ہوئےنوجوانوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ ایسے کئی سوالات ہیں جن پر غورکرنےکے لئے یہ معاملہ موقع فراہم کرتاہے۔
جنہیں جیت حاصل کرنی تھی وہ جیت گئے، جنہوں نے ’ہم تمہارے ساتھ ہیں ‘ کہا تھا وہ اپنے حد تک رہ گئے، آگے جنہیں فتح پانا ہے وہ پائیں گے ۔کھیل ختم ہوتے ہی سب ایک ہی ڈبے میں جمع ہونے والے شطرنج کےمہروں کی طرح ہر کوئی اپنی پارٹی بھول جاتا ہے۔ کوئی بھی پارٹی ہو، نظریاتی طورپر مخالفت کرنے اور پرامن احتجاجات کرنےکے بجائے ماحول کو پرتشدد اور مشتعل کرنا کہاں تک صحیح ہے۔ ہمیں یہ معاملہ سبق سکھا تاہے کہ ہم میں اتنا شعور لازمی ہے کہ ہم کسی کے مہرے نہ بنیں بلکہ اپنی شخصیت کا ہم احترام کرنےوالےبنیں۔